نہانے سے پہلے یہ تحریر ضرور پڑھیں۔۔۔

ہمارے مڈل کلاس بزرگ شیمپو اور بے پردہ میموں کو ایک جیسا سمجھتےتھے۔ نہانا وہ کام ہے جس میں جسم کے تمام عضو اکھٹے ہوکر حصہ لیتے ہیں۔ اگر ایک عضو بھی بھیگنے سے انکار کردے تو نہانے کا لطف جاتا رہتا ہے۔ نہانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کپڑوں کی آلائش سے پاک ہوں۔

غسل خانے میں چٹخنی لگی ہو اور ساتھ چائے یا کافی نہ سہی مگر پانی کافی ہو۔ نہانے کا آغاز آپ اپنی پسند کے کسیبھی عضو سے کرسکتے ہیں۔ پہلے انسان کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر نہاتا تھا مگر نئیایجادات کی بدولت ہی سہی مگر اب وہ نہانے کے لیے لیٹ بھی سکتا ہے۔ نہانے سے جسم، صابن،شیمپو اور تولیہ بنانےوالوں کو راحت ملتی ہے۔ باتھ ٹب نے باتھ روم کو بیڈروم میں تبدیل کردیا ہے۔ اب آپ بیڈروم والا ہر کام باتھ روم میں کرسکتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا ہم سب کے غسل خانوں میں صرف ایک لال صابن نظرآتاتھا، اب دنیا میں صابنوں اور ٹی وی چینلز کی کوئی کمی نہیں۔ صابن نہانے کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ نہاتے ہوئے اگر ایک خوشبودار صابن آپ کے ہاتھ میں نہ ہو تو نہانے کا آدھا لُطف جاتا رہتا ہے۔ جسم سے میل اور دیگر چیزیں چھوٹتیہی نہیں اگر ان پر صابن کا تڑکا نہ لگے۔ شیمپو نے غسل خانوں کو وہی رونق بخش دی ہے جو عورتوں نے مردوں کے جیون کو۔ سنا ہے جب نیا نیا شیمپو آیا تھا ہمارے مڈل کلاس بزرگ شیمپو اور بے پردہ میموں کو ایک جیسا سمجھتےتھے یعنی صرف دیکھنے کی چیز،استعمال سے پرہیز۔نہانا

کتنی بار نہاتا ہے اس کا شمار کوئی نہیں رکھتا۔سوئمنگ پول نے نہانے کے تمام چھپے پول کھول دیے ہیں۔ اس کی وجہ سے اب نہانے کے لیے باری کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ جب دل چاہا چھلانگ لگادی اور جسم و جذبات کو تر کرلیا۔ سمندر اور دریا میں جاکر نہانا ایک دلچسپ مشغلہ سمجھا جاتا ہے۔ایسی جگہوں پر شادی شدہ اپنی فیملی اور غیرشادی شدہ دوسروں کی فیملی کو دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ غیروں کی جتنی تصویریں ساحل پر بنتی ہیں، اتنی اور کہیں نہیں۔ مغربی ممالک میں پانی کے علاوہ سورج کی کرنوں کا غسل بھی عام ہے۔ ہمارے ملک میں اگر کوئ غیرملکی خاتون ’سن باتھ‘ لینے کی کوشش کرے تو سورج سے زیادہ مردوں کی کرنیں اس کے جسم تک پہنچتی ہیں۔ ایک نہانا اور ہے جسے ’غسل صحت‘ کہتے ہیں۔ اس قسم کے غسل کے لیے ڈاکٹر بڑی لمبی رقم اینٹھ لیتے ہیں۔ ایک نہانا ایسا ہے جو ہر جوان عورت پر فرض ہے۔ یہ من جانب اللہ ہے جس کا فیض شوہر اُٹھاتے ہیں۔ نہانا صرف زندگی کے لیے ضروری نہیں، مرنے کے بعد بھی آدمی کو نہلایا جاتاہے جسے آخری غسل کہتے ہیں۔ یہ وہ غسل ہوتا ہے جس کے بعد لوگ آپ کو کندھوں پر اٹھالیتے ہیں جیسے آپ نے کوئ غیرمعمولی کارنامہ انجام دیا ہو