پانی میں نمک ڈال کر گھر کے کسی کونے میں رکھیں

بعض اوقات ہمارے گھروں میں منفی توانائیوں کا پڑاﺅ ہونے کی وجہ سے گھر میں لڑائی جھگڑے ہونے لگتے ہیں ۔گھر میں آنے والے رشتے دار،دوست یا مہمان اپنے ساتھ منفی توانائی لے کر آسکتے ہیں جس کی وجہ سے گھر کا سکون خراب ہوجاتا ہے۔اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ گھرمیں منفی توانائی تو اپنا کام نہیں کررہی تو ذیل میں پانی کی مدد سے آپ یہ طریقہ جان سکتے ہیں۔ ایک صاف شیشے کا گلاس لیں اور اس میں ایک تہائی تک سمندری نمک ڈالیں،اب اس میں پانی ڈال کر بھردیں اور گھر کے اس حصے میں رکھیں جہاں آپ سمجھتے ہیں کہ منفی توانائی زیادہ ہے۔گلا س کو اس جگہ24گھنٹے تک پڑا رہنے دیں اور بالکل بھی نہ ہلائیں،اگر پانی شفاف رہے تو اس کا مطلب ہے کہ گھر کایہ حصہ کلیئر ہے ،اب اسی طریقے سے گھر کے کسی اور حصے کو جانچیں۔اگر کہیں گلاس میں موجودپانی کارنگ تبدیل ہوجائے تو اس طریقے کو دوبارہ دہرائیں۔پانی کے رنگ کی تبدیلی کا مطلب ہے کہ آپ کے گھر میں منفی توانائی موجود ہے لہذا عبادات کے ذریعے اس حصے کو صاف کریںبعض اوقات انسان سے جانے انجانے میں کچھ ایسی غلطیاں سر زد ہوجاتی ہیں جس کی کوفت اسے ساری زندگی تڑپاتی ہے آج ہم آپ سےتین ایسے کام شیئر کریں گے جو بیوی کے ساتھ کرنے سے سختی سے منع فرمایا گیا ہے جو بھی شخص اپنی شریک حیات کے ساتھ یہ عمل کرے گا رزق اس سے دور کر دیا جائے گا بیماریا اس کی زندگی میں عام ہو جاتی ہے ساس سسر کو گالی دینا شادی کے بندھن سے منسلک ہونے کے بعد ساس سسر والدین کا درجہ رکھتے ہیں وہ وہی تعظیم کے حقدار ہیں جو اپنے والدین کی ہوتی ہے ان کو برا بھلا کہنا گالی گلوچ کسنے سے منع فرمایا گیا ہے۔کچھ ان پڑھ لوگ اپنے ساس سسر کو برے ناموں سے پکارتے ہیں توزوال ایسے گھر کا مقدر بن جاتا ہے بیوی کے ساتھ غیر فطری طریقے سے ہمبستری کرنا بیوی کے ساتھ پچھلے حصے سے ہمبستری کرنا شرمگاہ کو منہ لگانا یہ ایک غیرفطری فعل ہے جس سے عورت تکلیف سے دوچار ہوتی ہے ایسے مرد پیسے پیسے کا محتاج ہو جاتے ہیں وہ شوہر جو بات بات پروہ الفاظ بولے جس میں طلاق کاناپسند دید لفظ ہو گھروں میں میاں بیوی کے درمیان وقتی ناراضگی ہو جاتی ہے مگرچھوٹی بات پر طلاق کالفظ بول کرعورت کو پریشان کرنا بہت بڑی زیادتی ہے لفظ طلاق کو اللہ پاک نے سخت ناپسندفرمایاہے زندگی ایک دوسرےکوسمجھنےاوربرداش کرنے کانام ہے غلطیاں جانے انجانےمیں ہوجاتی ہیں بہترین حکمت عملی یہی ہے کہ خوش اسلابی سے حل کیے جائیں تاکہ دلوں میں رنجشیں پروان نہ چڑھیں اور وفاباقی رہ سکیں جب میاں بیوی ایک دوسرے کو سمجھ لیتے ہیں ایک دوسرے کی خوشی کا احترام کرتے ہیں ایک دوسرے کو وہ مقام دیتے ہیں جس کا وہ حق رکھتے ہیں۔مرد عورت کو اپنی پراپرٹی نہ سمجھےعورت مرد کو اپنا غلام نہیں تو ان کی ازدواجی زندگی جنت بن جاتی ہے دوستو اپنی بھی اصلاح کریں اور دوسروں سے بھی شیئر کریں تاکہ وہ بھی ان کاموں کا مرتکب ہونے سے بچ سکیں اور اپنی اصلاح کر سکیں شکریہ