تمہیں پتہ ہے کہ اللہ نے مکھی کو کیوں پیدا کیا ہے؟

ﺧﺮﺍﺳﺎﻥ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﮭﯿﻞ ﮐﺮﻭﺍﭘﺲ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﺨﺖ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ تھی، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﻏﻼﻡ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ ﻣﻮﺩﺏ ﺳﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮﺳﺨﺖ ﻧﯿﻨﺪ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﺗﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﮭﯽ ﺁﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺎﮎ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺧﯿﺎﻟﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﻣﮑﮭﯽ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﭘﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮨﮍﺑﮍﺍ ﮐﺮ ﺟﺎﮒ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺐ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍﺗﻮ

ﻧﮯ ﻏﻼﻡ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ: ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭘﺘﮧ ﮨﮯﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﮑﮭﯽ ﮐﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺣﮑﻤﺖ ﭘﻮﺷﯿﺪﮦ ﮨﮯ؟ ﻏﻼﻡ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﺳﻨﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﺳﻨﮩﺮﮮ ﺣﺮﻭﻑ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﮨﮯ۔ﻏﻼﻡ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ: ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ! ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﮑﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﻠﻄﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺯﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﮭﯽ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ۔ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻏﻼﻡ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺸﯿﺮ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ
طوفان نوح گزر جانے کے بعد جب حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر پہنچ کر ٹھہر گئی تو حضرت نوح علیہ السلام نے روئے زمین کی خبر لانے کیلئے کبوتر کو بھیجا تو وہ زمین پر نہیں اترا بلکہ مل سبا سے زیتون کی ایک پتی چونچ میں لے کر آ گیا تو آپؑ نے فرمایا کہ تم زمین پر نہیں اترے اس لئے پھر جاؤ اور روئے زمین کی خبر لاؤ تو کبوتر دوبارہ روانہ ہوا اور مکہ مکرمہ میں حرم کعبہ کی زمین پر اترا اور دیکھ لیا کہ پانی زمین حرم سے ختم ہو سے ختم ہو چکا ہےاور سرخ رنگ کی مٹی ظاہر ہو گئی ہے‘ کبوتر کے دونوں پاؤں سرخ مٹی سے رنگین ہو گئے اور وہ اسی حالت میں حضرت نوح

علیہ السلام کے پاس واپس آ گیا اور عرض کیا کہ اے خدا کے پیغمبر! آپ میرے گلے میں ایک خوبصورت طوق عطاء فرمائیے اور میرے پاؤں میں سرخ خضاب مرحمت فرمائیے اور مجھے زمین حرم میں سکونت کا شرف عطا فرمائیے چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام نے کبوتر کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور اس کیلئے یہ دعا فرما دی کہ اس کے گلے میں دھاری کا ایک خوبصورت ہار پڑا رہے اور اس کے پاؤں سرخ ہو جائیں اور اس کی نسل میں خیر وبرکت رہے اور اس کو زمین حرم میں سکونت کا شرف ملے