وہ نسخہ جو آپ کو اپنی عمر سے 10سال چھوٹا بنادے گا

ہرانسان کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ وہ ہمیشہ جوان رہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ عمر ڈھلتی ہے اور بڑھاپا اپنی جگہ بنا لیتاہے۔ہم آپ کو ہمیشہ جوان رہنے کے لئے کوئی آب حیات تو نہیں بتاسکتے لیکن ایک ایسا نسخہ ضرور بتاسکتے ہیں جسے استعمال کرکے آپ اپنی عمر سے 10سال کم نظر آئیں گے۔اس نسخے کے لئے آپ کو مندرجہ ذیل اشیاءکی ضرورت ہوگیآدھا کیلاتین چمچ جو کا دلیہ دہی میں ملا ہواایک چمچ شہدایک انڈابنانے کا طریقہ:کیلے کو انڈے ،شہد اور دیگر اجزائ میں ڈال کر اچھی طرح مکس کرلیں اور اس مواد کو اپنے چہرے پر 15منٹ تک لگا رہنے دیں۔

یاد رہے کہ اس مواد کو لگانے سے قبل چہرے کو اچھی طرح دھو لیں تا کہ تمام جراثیم اور مٹی صاف ہوجائے۔یہ ماسک تمام عمر اور جلد کے لوگ لگا سکتے ہیں۔کیلے لوگ لگا سکتے ہیں۔کیلے میں فائبر پایا جاتا ہے جو کہ جلد کے لئے بہت زیادہ مفید ہونے کے ساتھ اسے نرم و ملائم بنا دیتا ہے اور ساتھ ہی چہرے کے کیل مہاسوں کو ختم کرتا ہے۔شہد کی وجہ سے ہماری جلد میں پانی کی کمی ختم ہوتی ہے جبکہ جو اور دہی کے ملاپ سے لیکٹک ایسڈ بنتا ہے جو کہ جلد کو تازہ کردیتاہے
آج کل ہر طرف نفسا نفسی کا ماحول ہے، ایک مسلمان کو اگر کسی دوسرے مسلمان کا جوٹھا پانی پینے کا بھی کہا جائے تو وہ ایسا کرنے میں عار محسوس کرتا ہے۔لیکن آج ہم آپ کو جو بات بتانے جارہے ہیں اسے پڑھنے کے بعد شاید آپ ایسا نہ کریں۔ ہمارے پیارے

آقا حضرت محمد ﷺ کا فرمان عالی شان ہے۔‘عاجزی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے مسلمان بھائی کا جوٹھا یعنی بچا ہوا پانی پی لے اور جو اپنے بھائی کا جوٹھا پیتا ہے اس کے 70 درجات بلند کردیئے جاتے ہیں، 70 گناہ مٹادیئے جاتے ہیں اور اس کے لئے 70 نیکیاں لکھی جاتی ہیں’۔ نزالاعمال، الحدیث 5745، ج 3، ص 51)نبی پاک ﷺ کے فرمان کے مطابق اگر کسی مسلمان بھائی کا جوٹھا پانی پینے کا اتنا ثواب اور انعام ہے تو ہمیں ضرور کسی دوسرے مسلمان بھائی کا جوٹھا پانی پینے میں شرم یا عار محسوس نہیں کرنا چاہیئے۔دوسری جانب یہ بھی عاجزی میں سے ہے کہ آدمی اپنے بھائی کا جوٹھا پئے ۔ تو جو اپنے بھائی کا جوٹھا پیتا ہے اسکے ستر درجات بلند کردئے جاتے ہیں ، 70 گناہ مٹادئے جاتے ہیں اور اسکیلئے ستر نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں۔ امام احمد نے کہا کہ یہ حدیث میں اتنے پائے کا نہیں البتہ جہمیوں کا شدید مخالف تھا۔ مسلم وغیرہ نے متروک کہا۔ ابو حاتم نے کہا کہ اس نے قرآن کے فضائل کے بارے میں ایک طویل حدیث ایجاد کی ہے۔ بخاری نے منکر حدیث کہا۔ ابن عدی نے کہا کہ میں نے اس کے حوالے سے جتنی روایات لقل کی ہیں ان میں سے زیادہ تر کی متابعت نہیں کی گئی ۔ البتہ ضعیف ہونے کے باوجود لکھی جائیں گی۔ ابو حاتم نے کہا کہ مجہول ہے۔ اسکی حدیثیں اسکے منکر ہونے پر دلالت کرتی ہے (میزان الاعتدال) ابن جوزی نے الموضوعات میں اس روایت کو ذکر کیا ہے