جو کے دلیے

کسی بیماری یا جسم میں گرمی کی وجہ سے زبان پر چھالے نکل آتے ہیں یا پھر منہ خشک رہنے لگتاہے ، ایسے میں آپ کیلئے آسان نسخہ اور ذکر پیش خدمت ہے ، چاہے زبان پر چھالے ہوں یا منہ میں ، یاپھر پورامنہ ہی خشک رہتاہویاصرف صرف زبان ، دونوں صورتوں میں مفید ہیں.علاج: (1 ذرا سا کتھا انگلی پر لگا کر صبح شام 8 سے10 دن تک چا ٹیں.(2 جو کا دلیہ پانی میں پکا کر دودھ اور شہد ملا کرناشتے میں استعمال کریں. (3 عرق سونف دو گھونٹ کے برابر دن میںایک مرتبہ لیں.ذکر: تعداد ذکر 100یا سلام، یا مومن، یا اللہ 100 یا رحمان، یا رحیم، یا کریم 100 لاحول و لا قوة الا باللہ 40 لا ا لہ اللہ انت سبحانک انی کنت من الظالمین یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ منہ میں بنے چھالوں کو نظرانداز نہ کریں ، یہ کینسرکاسبب بھی بن سکتے ہیں.

قادری صاحب چہرے پہ بے تحاشہ برہمی و غصے کے تاثرات لئے ہوئے گھر میں داخل ہوئےچیخ کے بیگم کو آواز دی، بیگم بیچاری گھبرا کے آئی، خیر تو ہے؟ کیا ہوگیا؟ تم شیخ صاحب کے گھر گئی تھیں؟ قادری صاحب نے اپنے دیرینہ، جگری اور گہرے دوست کے نام کا حوالہ دیکر پوچھا، “اور تم نے ان سے کہا کہ وہ مجھ سے کہے کہ میں تمہیں شاپنگ کے لئے پیسے دوں؟ ”“ہاں گئی تھی، اور کہا بھی تھا” بیگم نے اقرار کیاکیا؟؟؟؟؟؟؟ قادری صاحب تقریباً دھاڑتے ہوئے بولے، شاید انکو بیگم سے انکار کی توقع تھی، “کیا میں گھر میں نہیں تھا؟ کام سے میری واپسی نہیں ہونی تھی؟

مر گیا تھا؟ مجھ سے ڈائرکٹ کیوں نہیں مانگے پیسے؟ شیخ سے کیوں مانگے؟”“اللہ نہ کرے! مانگے تو آپ ہی سے ہیں، بس شیخ صاحب آپ کے اتنے قریبی دوست ہیں تو ان سے جا کر بول دیا کہ آپ سے کہیں کے آپ مجھے پیسے دے دیں” بیگم نے معصومیت سے کہا۔ قادری صاحب کا غصہ سوا نیزے پہ پہنچ گیا،” دماغ درست ہے تمہارا؟ گھر میں موجود اپنے شوہر کو چھوڑ کر تم گھر سے نکلیں، دوسرے علاقے میں موجود میرے دوست کے پاس جا کر کہہ رہی ہو کہ وہ مجھے بولے، وہ کیوں بولے مجھ سے؟ تم نے کیوں نہیں کہامجھ سے؟” کہنے کو تو یہ صرف چند الفاظ ہیں لیکن اگر ان پر غور کیا جائے تو صرف ایک بات سامنے آئے گی کہ قائدؒ کا مقصد نوجوان نسل کو بہتری، محنت، اتحاد، ایمان اور جدوجہد سمیت تمام اچھے کاموں میں ہمہ تن مصروف دیکھنا تھا